میں آپ کو رسول پاک صلى الله علیه و آلہ وسلم جیسی مختصر دعوت اسلام دے رها ھوں، رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم نےکلمہ پڑھا کر عقيده توحید کی دعوت دی یعنی الله کو ایک مانو اور حضرت محمد صلى الله علیہ وآلہ وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول مانو، اور تمام بتوں اور کافروں سے الگ هو جاو، مکہ جب فتح هوا تو وهاں کے لوگ الله کو مانتے تھے، خانہ کعبہ کی عزت کرتے تھے، لیکن کفر کرتے تھے یعنی بتوں کو بھی خانه کعبہ میں رکھا تھا جنہیں رسول پاک صلى الله علیه وآله وسلم نے ھٹوایا تھا، یہ بت اُن کے نیک بزرگوں کے تھے، میں بھی آپ سے یہی درخواست کر رها هوں که الله کو اپنا ایک معبود مانو اور حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم کو اپنا آخری نبی اور رسول مانو اور تمام کافروں سے عليحده هوجاؤ، اولياء کرام کی مورتی پوجا چھوڑو، اپنے اپنے فرقوں کے بزرگوں کو بھگوان مت بناؤ کہ وه کسی صورت کافر نہیں ھو سکتے جنہوں نے هزاروں کفر کے فتوے ایک دوسرے کوجاری کرے هیں، فتوے کافر ضرور بنا دیتے ھیں، یعنی اس وقت آپ کو رسول پاک صلی اللہ عليه وآله وسلم والی دعوت اسلام یعنی کلمہ توحید دوباره پڑھنے کی ضرورت ھے تمام کافروں سے الگ ھوکر، نہیں تو آپ پھر مسلمان کیسے؟ اللہ کا حکم مان کر تمام فرقے توڑ کر صرف رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرقے جماعت کے هوجاؤ جو 73 میں سے واحد اکیلا جنتی فرقه جماعت ھے اور باقی سارے جہنمی، یہ باتیں اُسی کو بری لگیں گی جو خود کو بھگوان بنائے بیٹھے هیں، سچا مسلمان همیشه توبه کرتا ھے اور رسول پاک صلى الله علیه وآله وسلم پر اپنا کچھ قربان کردیتا ھے۔ شکریه
www.youtube.com/@munawar-hussain-1976
میں نے ساری زندگی انسانیت بزرگوں اور مذاهب کا احترام کیا ھے اور کرتا رھوں گا انشا اللّہ، مقصد باتوں کا اصلاح ھے دنیا کے لوگوں کی، concept کلیئر کرنے کیلئے جو موزوں الفاظ نظر آئے لکھے کیونکہ کوئی اور لفظ اُس کی جگہ سمجھ نہیں آرھا تھا کیا لکھوں، لیکن کسی کو لقب نہیں دیا اور نہ کبھی فتوی، صرف ایک طالبعلم کی حیثیت سےدنیا میں سب سے باتیں شیئر کی ھیں، کچھ ناگوار گذرا هوتو معاف کردینا، اور بتا بھی دینا کہ اس بات کو سمجھانے کیلئے یہ بھی لکھا جاسکتا ھے،جیسے ڈرامہ یا فلم حقیقت نہیں ھوتی صرف سمجھانے کیلئے ھے جوکہ محدود بجٹ کی وجہ سے میں بنا نہیں سکتا، میں هر وقت حاضر ھوں آپکی رائے جاننے کے لئے، شکریہ
اچھی سچی باتیں شیئر کرنا بھی نیکی اور صدقہ ھے
۔
No comments:
Post a Comment