اسلام میں فرقے بنانے کی بالكل بھی گنجائش نہیں ھے۔ اسلام هر شخص کی انفرادی سوچ عمل اور حساب کتاب کا نام ھے۔
قرآن میں الله پاک نے فرمایا:
الله کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقه میں مت پڑو
رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم نے ہمیں بتایا:
حديث : جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ھے تو دونوں میں سے کوئی ایک شخص اس کفر کے ساتھ لوٹا (یعنی اگر جسے کافر کہا گیا ھے وہ کافر نہ هوا تو کہنے والا خود کافر ہو جائے گا) بخاری شریف حدیث نمبر 6104
یہ حدیث ھمیں خبردار کرتی ھے کہ اس کام سے دور رھو ورنہ خود کافر هو جاؤ گے، کسی کو کافر کہنا ایسے هی هے کہ آپ کے ہاتھ میں پسٹل ھے اور آپ کسی کو گولی مار رھے هو، لیکن پسٹل ایسی آٹو میٹک اللہ نےبنائی ھے کہ اگر جس کو گولی ماری وہ نہ مرا تو اللہ کی طرف سے پسٹل سے نکلی کافر والی گولی آٹو میٹک طریقہ سے آپ کو آ کر ضرور لگے گی، اور الله کا نشانہ کبھی غلط نہیں لگتایہ بھی یاد رکھنا ایسا کام کرنے سے پہلے ۔
اوپر بیان کردہ اللہ کے حکم اور نبی پاک صلى الله علیه وآله وسلم کی تعلیم کے مطابق فرقے بنانا اور کفر کے فتوے دیناحرام ھے کیونکہ دونوں صورتوں میں امت هی برباد ھوتی ھے۔
اب هم الله کے دین کو جانتے ھیں:
اللہ کو اپنا اکیلا معبود ماننا اور صرف اللہ کے لیے عبادت کرنا اور اس کے احکامات ماننے والا مسلمان کہلاتا ہے جو کہ سارے انبیاء علیہ السلام کا درس ہے -
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تقریبا 40 سال کی عمر میں رسالت ملنے کے بعد دعوت اسلام دینا شروع کی تو اُس وقت نہ قرآن تھا اور نہ هی احادیث یعنی ایک بھی کتاب نہیں تھی ۔ صرف کلمہ پڑھو اور مسلمان بن جاؤ، یہی اصول آج بھی ھے مسلمان بننے کا، پھر عبادت کرو، روزی تلاش کرو، گھر سنبھالو، یہی اسلام ھے، صحابہ رضی اللہ عنہ اجمعین کی برابری ساری عمر بھی کتابیں پڑھتے رھو نہیں کر سکتے ۔
قران کو اللہ نے جبرائیل علیہ السلام فرشتے کے ذریعے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر تقریبا 23 برس کے عرصے میں ٹکڑوں ٹکڑوں میں اتارا ۔ نزول قران کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تقریبا 40 برس کے تھے اور ان کی وفات سنہ 11 هجری بمطابق 632 عیسوی تک جاری رہا ۔
قران تقریبا 23 سالوں میں مکمل ہوا لیکن اس عرصے میں نہ جانے کتنے افراد کلمہ توحید کا اقرار کر کے صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اعزاز حاصل کر کے قران مکمل ہونے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے، یعنی ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی، قران اور احادیث کتاب کی شکل میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ جانے کتنے سالوں کے بعد آنےوالی نسلوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے لکھی گئیں تاکہ دین کی باتیں درست آنے والی نسلوں تک پہنچ سکیں، ایسا نہ ہو کہ دوسری قوموں کی طرح اللہ کی اصل باتیں ہی غائب نہ ہو جائیں، مثال کے طور پر تورات زبور انجیل میں سے اللہ کے اصل الفاظ غائب کر کے ہر کوئی خود خدا کی جگہ اپنی اپنی تعلیمات پر چلا رہا ھے، اور معصوم لوگ اسے خدا کا کلام سمجھ کر عقیدت سے مانتے ہیں، یعنی ان کے مذہبی افراد خود ہی خدا بھگوان بن بیٹھے، کتاب اصل وہی ھے جو نبی علیہ السلام کی اپنی زبان میں ھے، باقی سب دوسروں کے ذہن کی باتیں ہیں جو کئی جگہ اصل بات کا مطلب هی ختم کر دیتی ھیں ، جیسے اصلی قران عربی زبان میں جو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان تھی، اب کوئی بھی قران کی تفسیر یا قران کا ترجمہ قران نہیں کہلا سکتا، یہی اصول اللہ تعالی کی تمام کتابوں کے لیے ھے، اس وقت قران کے علاوہ کوئی بھی کتاب اپنی اصل اور مکمل درست حالت میں نہیں ھے ۔
اب ہم وہ باتیں دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ کافر ہوتے ہیں اور فرقے بناتے ہیں، جیسے ہی اپ کلمہ توحید کا اقرار کر کے اسلام میں داخل ہوتے ہو تو اپ کو پھر فرض سنت واجب نفل وغیرہ کا خیال رکھنا ہوتا ھے، دین کا دھندا کرنے والوں نے مسلمانوں کو اسلامی تاریخ اور دیگر ایسے مسائل میں الجھا کر لڑوا کر کافر بنایا جن کا فرض سنت واجب سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسلامی تاریخ هسٹری جاننے سے آپ کافر ھوتے هو، لیکن کفر کے فتوے جو فرقوں والے جھگڑے کر کے ایک دوسرے کو دیتے ہیں وہ کافر ضرور بناتے ہیں۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں سکھایا:
حديث : جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ھے تو دونوں میں سے کوئی ایک شخص اس کفر کے ساتھ لوٹا (یعنی اگر جسے کافر کہا گیا ھے وہ کافر نہ هوا تو کہنے والا خود کافر ہو جائے گا) بخاری شریف حدیث نمبر 6104
خدارا ان تمام کافر کافر بنانے والے فرقوں سے الگ هو جاؤ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرقے جماعت کا رکن اپنے آپ کو بتاؤ جو کہ واحد جنتی فرقہ ھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بتائی هوئی معلومات کے مطابق 73 فرقوں میں سے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے 73 فرقے ھوں گے جو سب کے سب جہنم میں جائیں گے مگر ایک، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون سا فرقہ هوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس طریقے پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔ ترجمہ معجم صغیر للطبرانی حدیث نمبر 785 ، اس حدیث کی صداقت اور بھی مستند احادیث سے ھو سکتی ھے ۔
اس حدیث مبارکہ سے ہمیں معلوم هوا کہ صرف رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا فرقہ جماعت هی جنتی هے اور هم سب مسلمانوں کو اُسی جماعت کو پکڑنا ھے، کیونکہ باقی سارے فرقے تو ایک دوسرے کو خود هی فتوے دے کر کافر بنائے بیٹھے ہیں اور پھر اکڑتے تکبر غرور بھی کرتے ہیں کہ ہمارا فرقہ کافر هو هی نہیں سکتا جو کہ خدا کی برابری اور شرک ھے، کیونکہ صرف خدا کفر سے پاک ھے، اور ھمارے لئے تو شریعت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق قرآن میں اللہ کا حکم هے کہ "فرقے نہ بناؤ" اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ بھی ھیں کہ کفر کے فتوے کافر بنا دیتے هیں، اور دیگر بہت سے عمل ایسے ھیں جو انفرادی طور پر بھی امت کے بندوں کو کافر بنا دیتے ہیں انکے ذاتی فعل کی وجہ سے جیسے فرائض کا انکار وغیرہ ، قبر کے امتحانی سوالات میں اسلامی هسٹری شامل نہیں ھے ۔
اسلامی هسٹری کی چند باتیں جنہیں مرچ مصالحہ لگا کر بیان کر کے امت کو توڑا جاتا ھے اور کافر بنایا جاتا ھے جبکہ معلوم بھی ھے کہ ھسٹری کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا، هسٹری کس نے لکھی کتنا سچ کتنا جھوٹ هے کیونکہ اُس وقت نہ کیمرے تھے نہ هی سٹلائٹ انٹرنیٹ وغیره، ابھی اگر چند هزار افراد کا جھگڑا هو جائے تو هجوم کی وجہ سے کیمروں اور انٹر نیٹ وغیرہ کے ھوتے ھوئے بھی بالکل ٹھیک نہیں بتایا جاسکتا کہ کس نے کیا کرا ھے، تو پھر یہ لوگ لائیو کرکٹ کمنٹری کی طرح کیسے سب کے کرتوت بیان کرتے ھیں اور پھر امت کو لڑواتے ھیں، مثال رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائداد کی تقسیم باغ فدک وغیره، رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں یعنی مسلمانوں کی ماؤں پر بحث تنقيد کرنا اور تختہ مشق بنانا، ایک بھنگی چپڑاسی یعنی غریب سے غریب تر بھی اپنی اولاد اپنے خون اور نسل کا فخر سے بتاتا ھے تو پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون کا رشتہ جو چلا آ رها هے کون ختم کر سکتا ھے؟DNA سب بتا دیتا ھے کہ کون کس کے نطفہ منی سے پیدا ھوا ھے، واقعہ کربلا میں کتنا سچ ھے کتنا جھوٹ ھے معلوم نہیں، کونسا اُس وقت کیمرے لگے تھے کہ سب ریکارڈنگ موجود ھے، نہ جانے کتنی سچائی ھے ؟ جنہوں نے ساری زندگی رسول پاک صلى الله علیه وآله وسلم کے ساتھ گذاری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال تک جنہیں کبھی خود آپ صلی الله عليه وآله وسلم نے غلط یا برا نہیں کہا بلکہ همیشه اچھا کہا اور پسند فرمایا اُنہیں برا کہنا یا گالیاں دینا وغیره، اگر ایسی حرکات چاروں بڑے خلفاء سے ثابت ھیں تو آپ حق رکھتے هیں، نہیں تو آپ سوائے اپنی قبر برباد کرنے اور گنہا گار هونے کے اور امت کو لڑانے میں ملوث ھیں، جو فیصلے چاروں بڑے خلفاء کرگئے، جو کام رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں یعنی مسلمانوں کی ماؤں اور آل اولادکے ھوتے ھوئے انجام پا گئےاُن پر اعتراضات کرنا اور امت میں فتنہ پیدا کرنا، قرآن پر اعتراضات کرنا جبکہ معلوم بھی ھے کہ نہ جانے کتنےصحابہ رضی اللہ عنهم اجمين تو بغير مکمل قرآن کے هی دنیا سے رخصت ھوگئے تو آپ اب کیا فتح کرلوگےسوائے فتنہ پیدا کرنے کے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ماننے والے انکا هی قرآنی نسخہ لےآئیں نہیں تو جو ھمارے پاس قرآن ھے وهی حضرت علی رضی اللہ عنه والا مان لیں، قرآن تو توریت زبور انجیل کی طرح بدلا نہیں جا پارها تو هر فرقہ اپنے اپنے مطلب کا ترجمہ کرکے امت میں فتنہ پیدا کرکے لڑوانے اور کافر کافر بنانے میں مصروف ھے۔
جس طرح قران سے پہلے کی کتابوں کو لوگوں نے بدل کر اپنی اپنی من پسند باتیں ڈال کر اصل باتوں کو ہٹا کر اپنی قوموں کو اپنی مرضی پر چلا لیا، اسی طرح یہاں اصل عربی قران تو بدلا نہیں جا پا رہا تو اس کا توڑ فرقوں نے اپنی مرضی کے ترجمے اور تفسیروں سے نکالا تاکہ اپنے اپنے گروہ کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں ۔
جس بات کا عقیدہ توحید اور ایمان سے ڈائرکٹ تعلق ھے وه سرے سے ھی غائب، یعنی تمام جھوٹے معبودوں اور تمام کافروں سے الگ ھونا اور ایک اللہ اور پیارے نبی صلى الله عليه وآله وسلم سے اپنا تعلق بنانے کا عہد هی پسند نہیں تو پھر مسلمان کیسے کہلاو گے؟
مکہ جب فتح هوا اُس وقت مکہ کے لوگ الله کو مانتے اور خانہ کعبہ کی تعظیم کرتے تھے لیکن اپنے بزرگوں کے بت بھی خانه کعبہ میں رکھے ھوئے تھے اور. اُن سے بھی منتیں وغیره مانگتے تھے، رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم نے خانہ کعبہ سے بتوں کو ھٹوایا تھا، وهی دور آج پھر لوٹ آیا ھے، یعنی اپنے اپنے فرقوں کے بزرگوں کو خدا بھگوان سمجھ کر تمام کفر سے پاک بنا دیا ھے، هندو تو منہ سے ایسے لوگوں مثلاً شری رام کو بھگوان کہتا ھے، لیکن مسلمان منہ سے نہیں کہتے لیکن عمل سارا وهی هندو والا ھے، چور جب چوری کرتا ھے تو پکڑے جانے پر تھانے میں یہی بولتا ہے کہ میں نے چوری نہیں کری لیکن جب پولیس والے اُس سے برامد چوری کا مال دکھاتے ھیں تو پھر اُس کو ماننا پڑتا ھے ثبوتوں کی وجہ سے، جب تک آپ توبه کرکے تمام جھوٹے معبودوں اور تمام کافروں سے علیحدگی اختیار کر کے خالص الله اور رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم کے نہ هو جائیں تو آپ مسلمان نہیں، اپنے بڑوں اور بزرگوں کو بھگوان سمجھنا کہ ان پر فتوے لگتے هی نہیں اور ان کے جاری کرده فتوے ان پر لوٹتے بھی نہیں یعنی خدا کے برابر پرفیکٹ اور تمام فتووں سے پاک ھیں آپ کے بزرگ بھی خدا کی برابری اور شرک ھے، مطلب سب اپنے اپنے ابوجى کی شریعت هم پر نافذ کرے بیٹھے ھیں اور همارے جیسے للو پنجو انکے قدموں چرنوں میں هی سجدے کرتے رھیں گے؟ یہ کیسا عقيده توحید ھے ؟
هم تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے جیسا عقیدہ توحید رکھتے ھیں جنہیں صرف کلمہ توحید کا اقرار کرنے کی وجہ سے عذاب دیا گیا، انہوں نے تمام بتوں اور تمام کافروں سے منہ پھیرا تھا، نزول قرآن کے 23 سالوں تک قرآن کی شکل تک نہ دیکھی تھی بلکہ کوئی بھی دینی کتاب اُس وقت نہ تھی، ساری کتابیں رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم کی وفات کے بعد ترتیب سے جمع کرکے لکھی گئی ھیں، اللہ پاک ھمیں بھی ویسا هی ایمان نصیب فرمائیں۔ آمین
محترم محمد علی جناح صاحب نے بھی کلمہ کا تصور پیش کر کے لاکھوں شہید کروا کر پاکستان بنایا تھا ، لیکن یہاں تو مقصد ھی فوت ھو گیا ، ہمیں کوئی شوق نہیں کسی کو کافر کہنے کا اور نہ ھی فتوے دینا ھمارا کام ھے ، صرف سچائی اور آپ ھی لوگوں کے کرتوت بیان کرے ھیں ۔
میری تو اوقات کچھ بھی نہیں ، ھر چیز میں اللہ پاک کا محتاج ھوں - اگر سچائی ناگوار گزری ہو تو معذرت چاھتا ھوں مگر سچائی کو بدلنا میرے اختیار میں نہیں ھے۔ کافر بنانے والے احکامات قرآن میں اللہ پاک نے بیان کئے ھیں ، کافر بنانے سے متعلق احادیث رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ھیں ، کافر کے فتوے آپ کے ھی فرقوں کے علماء نے جاری کئے ھیں، مجھے قصور وار مت بنانا کہ میں کافر بناتا ہوں ۔
سمجهانے کا مطلب ھے کہ اسلام کے نام پر یہاں کھیل ھی کچھ اور هے - آخر میں پھر سمجھ نہیں آرھی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرح تمام بتوں اور تمام کافروں سے توبہ کرنے اور علیحدہ ہونے میں کیا حرج ہے ؟ ھلاکو خان یا مصطفی کمال اتاترک جیسوں کو دعوت تو نہیں دے رھے ؟
اگر پاکستان میں موجود سارے ھی فرقے مسلمان ہیں تو پھر لگتا ہے کہ میں ھی کافر ھوں جس کا عقیدہ اوپر لکھا هے جس کی وجہ سے مساجد والے مجھے اجازت نہیں دیتے کہ میری باتیں عوام کو بتائی جا سکیں، مجھے فتوے لکھ کر دے دو اور وجہ بھی لکھ دینا کہ منور حسین اس وجہ سے کافر ھے کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیدہ اپنانے کا درس دے رھا تھا اس وجہ سے ھم اسکو اپنی مساجد میں تعلیمی معلومات لگانے اور پھیلانے کی اجازت نہیں دے سکتے ، اپنے اپنے عقیدہ کا فیصلہ عوام خود کر لے۔
آخر میں پھر سوال ہے کہ آپ کیوں نہیں لکھتے اور اعلان کرتے کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدہ طریقہ پر ھیں ؟ کیوں نہیں مساجد میں لکھتے کہ ھم تمام کا فروں سے علیحدہ ھوتے ھیں ؟ کیوں اپنے اپنے علماء اکابرین امام حضرات کو ھندووں کے شری رام یا گاؤ ماتا کی طرح بھگوان سمجھ کر تمام کفر کے فتووں سے پاک سمجھ رکھا ھے ھر فر قے نے ؟ کیوں آپ کے علماء اور فرقہ قرآن اور حضرت محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شریعت سے بالا تر ھیں اور کفر کے فتوے ان پر لوٹتے بھی نہیں اور لگتے بھی نہیں ؟ یا پھر معاذ اللہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ ھی جھوٹے ھیں جنہوں نے ھمیں شریعت کا یہ اصول بتایا ؟ اور معاذ الله الله تعالٰی بھی جنہوں نے فرقے بنانے سے منع کیا ؟ اور آپ اور آپکے فرقے کے علماء ھی ساری دنیا میں مسلمان ھیں ؟
ھم آپکی دین کیلئے خدمات کا شکریہ ادا کرتے ھیں اگر آپ واقعی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو پھیلا رھے ھیں ، لیکن اگر آپ کا سارا زور اپنے فرقے اور علماء کی رائے کو ھی پھیلا کر کافر کافر بنانے کے مشن پر لگ جانا ھے تو ھمیں معاف کر دینا ایسا دین ھمیں نہیں چاھیے - ہمارا دین وہ ھے جیسا فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ میں سے رسول پاک صلى الله علیہ وآلہ وسلم نے بتوں مورتیوں کو نکال کر صرف ایک اللہ کی عبادت کا درس دیا، جیسا دیگر انبیاء علیہ السلام نے بھی صرف ایک اللہ ھی کی عبادت کا درس دیا تھا، لیکن اُن کے ماننے والے پیغمبر علیہ السلام کی غیر موجودگی میں مورتیوں کی پوجا میں معروف ھوجاتے تھے، موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں گائےکے بچھڑے کی مورتی کو پوجنے لگ گئے اور جب موسی عليه السلام واپس آئے تو مورتی پوجا دیکھ کر بہت تاراض ھوئے، عیسی عليه السلام کے بعداُن کے پیروکار بھی مورتی پوجا میں ملوث ھوگئے، يعنى عیسائی یہودی سب هی رب کی ذات میں شرک کرنے لگ گئے، هندووں کی بنیادی تعلیمات میں بھی ایک الله جس نے تمام کائنات کو کو بنایا اُسی ایک الله کی عیادت کا درس ھے لیکن بعد میں نہ جانے کس نے ان کو بھی بھگوان کی مورتی بنا کر پوجا کرنے پر لگا دیا، حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم کی امت جب تک اللہ کا حکم مان کر تفرقه میں نہیں پڑی تھی ٹھیک تھی، پھر جب سے الله کا حکم چھوڑا اور رسول پاک صلى الله علیہ و آلہ وسلم کی جماعت کو چھوڑ کر اپنے اپنے مولوی صاحب کی جماعت بنالی اور کفرکے فتوے امت کو دےکر اپنی جماعت اور علماء کو هندووں کے بھگوانوں کی طرح بھگوان سمجھ کر تمام کفر اور فتووں سے پاک بناکر شرک کرنے لگ گئے، اور اِس شرک سے بچنے کا واحد راستہ واپسی اُسی طریقہ پر چلنا ھے جو رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم کی جماعت کا تھا، یعنی سب کو اپنے اپنے علماء اکابرین کو انسان سمجھنا ھوگا جوکہ حضرت محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے مطابق فتووں اور عمل سے کافر ھوسکتے ھیں، جب سب لوگ تمام کافروں سے عليحده هونے کا عہد کر لیں گے تو پھر سب ایک امت اور رسول پاک صلى الله علیہ وآلہ وسلم کی جماعت جو کہ واحد جنتی فرقه ھے 73 میں سے اُس میں شمار کئے جائیں گے جو دوسروں کو کافر کہنے میں ملوث نہیں، عمل کا فرق جب صحابہ رضى الله عنهم اجمعین میں تھا تو هم بھی ان کی طرح مسلمان هی کہلائیں گے، لیکن اپنے اپنے علماء اکابرین کو ایک عام انسان سمجھ کر بھگوان کی طرح تمام کفر اور فتووں سے پاک سمجھ کر شرک کرنے سے بچ جائیں گے، اپنے علماء کو عالم کی حيثيت دو لیکن خدا بھگوان کے برابر نہ سمجھو کہ کسی صورت کافر هوهی نہیں سکتے، خانہ کعبہ میں تو سعودی حکومت امام حسن رضى الله عنه اور امام حسین رضى الله عنه، غوث پاک اور دیگر علماء اولياء کرام کی مورتیاں تو رکھنے نہیں دے گی جولوگوں نے اپنے گھروں اور دلوں میں انھیں بھگوان سمجھ کر بسا رکھا ھے، تمام نیک هستیوں کی اللہ کے پاس کیا شان ھے الله هی جانے، آپ اپنے آپ کو شرک سے بچاؤ اور وسیلہ کو اُس حد تک هی رکھوجیسا ھمیں رسول پاک صلى الله عليه وآله وسلم نے سکھلایا ھے۔
ھمیں آپکے بزرگوں سے نفرت نہیں مگر ہم انہیں خدا کے برابر نہیں مانتے اور وہ سب بھی کافر ھو سکتے ہیں ، رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا امتی صرف وہی ہے جو تمام جھوٹے معبودوں اور تمام کا فروں سے علیحدہ الگ ھے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنائی ہوئی جماعت کا حصہ خود کو بتاتے هیں ۔ جن لوگوں نے امت کو توڑ کر خود اپنی الگ جماعت بنا لی اور دوسرے امتیوں کو کفر کےفتوۓ دے دیے وہ امتی کیسے رھے؟ وہ دھوکہ دے رھے ھیں اللہ کا حکم فرقے نہ بناؤ چھوڑ کر اور اپنے بزرگوں کو خدا بھگوان کی طرح پاکیزه سمجھ کر۔
همارے معاشرے میں الله کے دین کے لئے کام کرنے والا طبقہ تو لوگوں کی زکواة خیرات کے کھاتے میں آتا ھے، یعنی لوگ جو ریٹائر هوجاتے ھیں وہ مساجد میں نظر آتے ھیں، یا پھر وہ لوگ جن کے دلوں الله کا ڈر خوف کچھ ھے، لیکن مولوی طبقہ کی حالت زار تو آپ دیکھ هی رهے هو، جبکہ یہ طبقہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ھے، جب بنیاد کا یہ حال هے تو پھر معاشره کا کیا حال هوگا؟ مولوی طبقہ تو موت میت نکاح فاتحہ دعا نماز کے وقت هی یاد آتا ھے جنہیں بہت قلیل خرچه دے کر جنت کی خواهش هوتی ھے، جب اتنے قليل آمدن والا طبقہ بھگوان بنا بیٹھا ھے تو پھر انکو بھگوان بنانے والے کتنے بڑے بھگوان ھوں گے ؟ ایسے معاشره سے کیا انصاف کی امید رکھیں؟ کیونکہ جہاں جج ، فوج، ساستدان، اساتذه وغیره کی موجوگی میں لوگ بھگوان بنے بیٹھے هوں تو پھر ایسے معاشره اور ملک کا انجام خود هی دیکھ لیں، محنت اور ایمان دار جوانوں کا جہاں حق مارا جاتا هو، وه ملک کبھی ترقی کرسکتا ھے؟ سوائے کرپشن اور لوٹ مار میں ترقی کے؟
میں نےساری زندگی انسانیت بزرگوں اور مذاهب کا احترام کیا ھے اور کرتا رھوں گا انشا اللہ ،مقصد باتوں کا اصلاح ھے دنیا کے لوگوں کی، concept کلیئر کرنے کیلئے جو موزوں الفاظ نظر آئے لکھے کیونکہ کوئی اور لفظ اُس کی جگہ سمجھ نہیں آرھا تھا کیا لکھوں، لیکن کسی کو لقب نہیں دیا اور نہ کبھی کافر کا فتوی، کافر تو انسان خود هی اللہ کے پاس لکھ دیا جاتا ھے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے چاھے میں فتوی دوں یا نہ دوں، صرف ایک طالبعلم کی حیثیت سے دنیا میں سب سے باتیں شیئر کی ہیں، کچھ ناگوار گذرا هوتو معاف کردینا اور بتا بھی دینا کہ اس بات کو سمجھانے کیلئے یہ بھی لکھا جاسکتا ہے، جیسے ڈرامہ یا فلم حقیقت نہیں ھوتی صرف سمجھانے کیلئے ھوتی ھے جوکہ محدود بجٹ کی وجہ سے میں بنا نہیں سکتا، میری جتنی اوقات تھی اتنا کر دیا، میں ھر وقت حاضر ھوں آپکی رائے جاننے کے لئے، شکریہ
آپ چاہے جتنے بھی گناہ گار ھوں لیکن سچے دل سے توبہ کر کے صرف مسلمان اور اُمتی رسول ضرور بن جانا تاکہ آپ اللہ پاک کی رحمت کے سائے میں آجائیں اور بخشش کا سامان ھو جائے۔
آخر میں اھل بیت آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدوں اور مسلمان کہلانے والوں سے سوال هے کہ اوپر بتائی گئی احادیث اور قرآنی احکامات اگر اب نہیں چلتے اور لگتے تو ہمیں بتا دیں۔ کیونکہ ھم توحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے اوپر بتائے گئے طریقے پر مسلمان ھیں ، بہت مساجد اور لوگوں کو سمجھایا لیکن کوئی همیں مدد کرتا اور مساجد مدارس میں بتانے کا موقع دیتا نظر نہیں آیا، یعنی کوئی قابل ذکر پذیرائی نہیں ملی، آپ ہمیں شاید جاھل سمجھیں ھماری رھنمائی فرما دیں تاکہ ھم پھر ان مقدس کتابوں کے بارے میں فیصلہ کریں کہ رکھنی چاھیں یا نہیں ۔ شکریہ